بھونیشور29/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)اگر 2024 لوک سبھا انتخابات میں بھی مودی کامیاب ہوتے ہیں پھریاد رکھیں کہ تو آئندہ کبھی الیکشن نہیں ہوگا بلکہ ملک میں تاناشاہی کا دور شروع ہو جائے گا۔یہ بات کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہی۔کچھ مہینوں بعد اُڈیشہ میں ہونے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنی طرف کر رہی ہے۔ آئین کے تحفظ کی ذمہ داری اب عوام کے اوپر ہے۔ ہر کسی کو ای ڈی نوٹس دے رہا ہے۔
بہار میں پیدا تازہ سیاسی حالات کے لیے بھی کھڑگے نے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مودی انڈیا اتحاد کے ایک لیڈر کو اُدھر لے کر گئے ہیں۔ وہ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں۔ خوف کی وجہ سے کچھ لوگ دوستی چھوڑ رہے ہیں، کچھ لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور کچھ لوگ اتحاد چھوڑ رہے ہیں۔ اتنے ڈرپوک لوگ اگر رہے تو ملک میں آئین اور جمہوریت نہیں بچے گا۔ کھرگے نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے دور رہیں کیونکہ وہ زہر کی مانند ہیں۔
29 جنوری کو بھونیشور میں منعقد ’اڈیشہ بچاؤ سماویش‘ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے کھرگے نے بی جے ڈی (بیجو جنتا دل) اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کے درمیان اندرونی گٹھ جوڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اڈیشہ کو برباد کرنے کے لیے بی جے ڈی-بی جے پی کے درمیان ’لو میرج‘ یعنی محبت کی شادی ہوئی ہے۔
’اڈیشہ بچاؤ سماویش‘ میں شریک عوامی سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے ملیکارجن کھرگے نے کانگریس حکومت کے ترقیاتی کاموں کو شمار کرایااور کہا کہ ’’کانگریس نے اڈیشہ کو پارادیپ بندرگاہ، راؤرکیلا اسٹیل پلانٹ، چلکا نیول اکیڈمی، منچیشور ریل کوچ فیکٹری، ایچ اے ایل، آرڈیننس فیکٹری، ایمس اور کئی بڑے تعلیمی ادارے دیے۔ لیکن آج پٹنایک جی بی جے پی کے ساتھ مل کر اڈیشہ کی ملکیت کو لٹانے کی اجازت دے رہے ہیں۔‘‘
بی جے ڈی کے وعدوں اور گھوٹالوں کا ذکر کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ ’’اڈیشہ میں 45 لاکھ سے زیادہ نوجوان بے روزگار ہیں۔ 2 لاکھ 36 ہزار عہدے مختلف سرکاری محکموں میں خالی پڑے ہیں۔ 06-2005 میں جب بی جے ڈی حکومت بنی تو وعدہ کیا تھا کہ ہر بلاک میں وہ 35 فیصد آبپاشی سہولیات 12-2011 تک دیں گے۔ بی جے ڈی حکومت کا وعدہ تھا کہ ریاست میں سبھی 314 بلاکوں میں کولڈ اسٹوریج سہولیات ملیں گی۔ لیکن 20 سال گزر جانے کے بعد بھی وہ وعدے ادھورے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ دو دہائیوں میں ریاست میں کانکنی گھوٹالہ اور 20 ہزار کروڑ روپے کے چٹ فنڈ جیسے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ اس میں بی جے ڈی اور بی جے پی کے لیڈران شامل تھے، ان کو دبا دیا گیا۔ اڈیشہ میں 29 فیصد ایس ٹی اور 16 فیصد ایس سی ہیں۔ اس کے باوجود بھی ان لوگوں کو پٹنایک حکومت میں کوئی بڑا کام نہیں ملا۔‘‘
کھرگے نے الزام عائد کیا کہ بی جے ڈی کے سبھی اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی ایک افسر کے سامنے سر بہ سجود ہیں۔ آج اڈیشہ کو ایک ایسا شخص چلا رہا ہے جس کا اڈیشہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ اڈیشہ کے لوگوں کے وقار کو شدید جھٹکا ہے۔ کھرگے نے ایسی حکومت کے خلاف مضبوطی کے ساتھ جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے انڈیا اتحاد کے تعلق سے کہا کہ جس طرح کسی ایک شخص کے جانے سے انڈیا کمزور نہیں ہوتا، ویسے ہی ایک دو شخص کے جانے سے انڈیا اتحاد بھی کمزور نہیں ہوتا۔ ہم ابھر کر آئیں گے، متحد ہو کر بی جے پی اور بی جے ڈی کو شکست دیں گے۔
India to have dictatorship, no more elections if Modi wins 2024 Lok Sabha polls: Mallikarjun Kharge